باغِ جناح لاہور: درخت ابھی زندہ ہیں، مگر کیا ہمارا اجتماعی ضمیر بھی زندہ ہے؟
بانی پاکستان کے نام سے منسوب اس تاریخی باغ میں یونین کے انتخابات، بینر، پوسٹر اور ہورڈنگز تو قابلِ قبول ہیں، مگر گلستانِ فاطمہ جناح کے دروازے عوام کے لیے بند یہ تحفظ ہے، انتظام ہے یا قومی ورثے سے بے حسی؟میں باغِ جناح لاہور گیا ارادہ تھا کہ لاہور کے اس تاریخی سبز اثاثے میں کچھ وقت گزارا جائے، پرانے درختوں سے ملاقات ہو اور اس شہر کی اس روح کو محسوس ...۔
سب دیکھیں — Nawa-i-Waqt →ملک کے صفِ اول کے نیوز رومز سے مرتب۔ ہر خبر اصل ماخذ سے جڑی ہے۔







